ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نظریاتی اختلافات سے قطع نظر دفعہ35اے کا متحدہوکر دفاع کریں گے: محبوبہ مفتی

نظریاتی اختلافات سے قطع نظر دفعہ35اے کا متحدہوکر دفاع کریں گے: محبوبہ مفتی

Sun, 29 Jul 2018 11:54:33    S.O. News Service

سری نگر، 29؍ جولائی (ایس او نیوز؍یو  ا ین آئی) پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر اور سابقہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ علاحدگی پسند جماعتیں، نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی اپنے نظریاتی اختلافات کو یکطرف رکھ کر دفعہ 35 اے کا دفاع کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ 35 اے کا دفاع ہمارے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے۔

محبوبہ مفتی نے ان باتوں کا اظہار ہفتہ کے روز اپنی جماعت پی ڈی پی کے 19 ویں یوم تاسیس کے سلسلے میں یہاں شیر کشمیر پارک میں منعقدہ ایک پارٹی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا 'میں آج اس اسٹیج سے علاحدگی پسند جماعتوں اور نیشنل کانفرنس سے کہتی ہوں۔ کانگریس ایک نیشنل پارٹی ہے ، ان کے قومی مفادات ہوتے ہیں۔ ہمارے لئے ( علاحدگی پسند جماعتوں، نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی) جموں وکشمیر کے مفاد ات الگ ہیں۔ اس وقت ہمارے لئے سب سے بڑا چیلنج دفعہ 35 اے ہے ۔ ہم اپنے اختلافات یکطرف رکھ کر دفعہ 35 اے کا دفاع اُسی طرح کریں گے ، جس طرح ہم نے گذشتہ دو برسوں کے دوران کیا ہے '۔ بتادیں کہ سپریم کورٹ نے دفعہ 35 اے کی سماعت کے لئے 6 اگست کی تاریخ مقرر کی ہے ۔

محبوبہ مفتی نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اپنے دور حکومت کے دوران دفعہ 35 اے کا کامیاب دفاع کیا۔ انہوں نے کہا 'جب دفعہ 35 اے سپریم کورٹ میں تھا تو تب میرے لئے حکومت سے الگ ہوجانے کا وقت آگیا تھا۔ میں نے مودی جی (وزیر اعظم نریندر مودی) سے ملاقات کی اور کہا کہ آپ نے ہم سے وعدہ کیا ہے کہ آپ دفعہ 370کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کریں گے ۔ میں نے مودی جی سے کہا کہ دفعہ 35 اے سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور آپ کا اٹارنی جنرل اس کا دفاع نہیں کررہا ہے ۔ اگر آپ نے اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تو ہم اس اتحاد کو آگے لے جانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔اسی اٹارنی جنرل نے بعد میں بیان دیا کہ دفعہ 35اے پر سماعت کو تعطل میں رکھا جائے کیونکہ ہم نے جموں وکشمیر میں بات چیت کے لئے مذاکرات کار نامزد کیا ہے '۔ دفعہ 35اے غیر ریاستی شہریوں کو جموں وکشمیر میں مستقل سکونت اختیار کرنے ، غیر منقولہ جائیداد خریدنے ، سرکاری نوکریاں حاصل کرنے ، ووٹ ڈالنے کے حق اور دیگر سرکاری مراعات سے دور رکھتی ہے ۔ دفعہ 35اے دراصل دفعہ 370کی ہی ایک ذیلی دفعہ ہے ۔ بتایا جارہا ہے کہ 1953میں جموں وکشمیر کے اُس وقت کے وزیراعظم شیخ محمد عبداللہ کی غیرآئینی معزولی کے بعد وزیراعظم جواہر لعل نہرو کی سفارش پر صدارتی حکم نامے کے ذریعہ آئین میں دفعہ 35اے کو بھی شامل کیا گیا، جس کی رْو سے بھارتی وفاق میں کشمیر کو ایک علاحدہ حیثیت حاصل ہے ۔ 10اکتوبر 2015 کو جموں وکشمیر ہائی کورٹ نے اپنے ایک تاریخی فیصلے میں دفعہ 370کو ناقابل تنسیخ و ترمیم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ( دفعہ 35اے ) جموں وکشمیر کے موجودہ قوانین کو تحفظ فراہم کرتی ہے ۔


Share: